میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Saturday, December 1, 2012

سنو دسمبر اسے پکارو

سنو دسمبر
اسے پکارو
سنو دسمبر
اسے ملادو
اسے بلادو

اب اس سے پہلے کہ
سال گذرے
اب اس سے پہلے کہ
جان نکلے

وہی ستارہ میری لکیروں میں
قید کردو
اس آخری شب کے
آخری پل
کوئی بڑا اختتام کر دو
یہ زندگی ہی تمام کردو

سنودسمبر
سنو دسمبر
اسے بلادو
اسے ملادو

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook