میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Saturday, September 22, 2012

مرے خیال نے جتنے بھی لفظ سوچے ہیں

مرے خیال نے جتنے بھی لفظ سوچے ہیں 
تیری مثال تیری عظمتوں سے چھوٹے ہیں 

یہ کس سے جنگ چھیڑی ہے۔۔۔؟


سنو للکارنے والو ! 

کسے للکارتے ہوتم ؟!

یہ کس پہ وار کرتے ہو!!
کہ ہاہاکار کرتے ہو
مگر یہ بھول جاتے ہو
یہ کس سے جنگ چھیڑی ہے۔۔۔

کسے تسخیر کرنے کی ادھوری کوششوں میں تم مگر مصروف رہتے ہو

چمن پہ قہر ڈھاتے ہو، گُلوں کو روند دیتے ہو
ستم کی فصل بوتے ہو!
امام الانبیاءؐ کے تم کبھی خاکے بناتے ہو
کبھی افکار کو انؐ کے ، نشانے پر سجاتے ہو

مگر یہ جانتے ہو کیا؟

سگ ِآ وارگاں کی جب بری آوازگونجے تو
مسلماں جاگ جاتے ہیں!
فصیلیں ٹوٹ جاتی ہیں!
قلعے تسخیر ہوتے ہیں!
ستم کی فصل بوتے وقت ہمیشہ سوچ لینا تم 
مری تاریخ کہتی ہے
کہ جب یہ فصل اگتی ہے نہایت تلخ ہوتی ہے
یہ اپنے ہاریوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے!

سنو للکارنے والو! نہایت غور سے سن لو !

میرے آقاؐ کے بارے میں زبانیں زہر جب اگلیں
تو انؐ کے چاہنے والے سروں کو کاٹ دیتے ہیں 

شاعر: عدیل احمد عدیل
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook