میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Showing posts with label khawab. Show all posts
Showing posts with label khawab. Show all posts

Tuesday, May 29, 2012

مبتلا ہے عذاب میں تتلی!



مبتلا ہے عذاب میں تتلی!
تھی بہاراں کے خواب میں تتلی

دل کوئی فرطِ غم سے ٹوٹ گیا
مر گئی اک کتاب میں تتلی

آخر اک روز اپنی جان سے گئی
آئینے کے سراب میں تتلی

رات کو اک عجب منظر تھا!
ہالہ ماہتاب میں تتلی

دیکھئے آج کس سے ملنا ہو
میں نے دیکھی ہے خواب میں تتلی

آہ، پیوستِ نوکِ خار ہوئی
اپنے عہد شباب میں تتلی

زخم میرے بدن پر ایسے سجے
جیسے شاخِ گلاب میں تتلی

جانے رہتی ہے کس کے غم میں نسیم
ہر گھڑی اضطراب میں تتلی

نسیم سحر

Saturday, January 7, 2012

چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں


چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
ميرے خدايا
ميں زندگي کے عذاب لکھوں
کہ خواب لکھوں
يہ ميرا چہرہ، يہ ميري آنکھيں
بُجھے ہوئے سے چراغ جيسے
جو پھر سے جلنے کے منتظر ہوں
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں
جنہوں نے پيماں کيے تھے مجھ سے
رفاقتوں کے، محبتوں کے
کہا تھا مجھ سے
کہ اے مسافر رِہ وفا کے
جہاں بھي جائے گا
ہم بھي آئيں گے ساتھ تيرے
بنيں گے راتوں ميں چاندني ہم
تو دن ميں تارے بکھير ديں گے
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں
وہ اپنے پيماں
رفاقتوں کے، محبتوں کے
شکست کرکے
نہ جانے اب کس کي رہ گزر کا
مينارہِ روشني ہوئے ہيں
مگر مسافر کو کيا خبر ہے
وہ چاند چہرہ تو بجھ گيا ہے
ستارہ آنکھيں تو سو گئي ہيں
وہ زلفيں بے سايہ ہو گئيں ہيں
وہ روشني اور وہ سائے مري عطا تھے
سو مري راہوں ميں آج بھي ہيں
کہ ميں مسافر رہِ وفا کا
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں
ہزاروں چہروں، ہزاروں آنکھوں، ہزاروں زلفوں کا
ايک سيلابِ تند لے کر
ميرے تعاقب ميں آرہے ہيں
ہر ايک چہرہ ہے چاند چہرہ
ہيں ساري آنکھيں ستارہ آنکھيں
تمام ہيں مہرباں سايہ دار زلفيں
ميں کِس کو چاہوں، ميں کس کو چُوموں
ميں کس کے سايہ ميں بيٹھ جاؤں
بچوں کہ طوفاں ميں ڈوب جاؤں
کہ ميرا چہرہ، نہ ميري آنکھيں
ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں، کہ خواب لکھوں

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں



ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

فقیرانہ روش رکھتے تھے
لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے
کہ اپنے خواب بیچیں
ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے
لیکن روکشِ بازار کب تھے
ہمارے ہاتھ خالی تھے
مگر ایسا نہیں پھر بھی
کہ ہم اپنی دریدہ دامنی
الفاظ کے جگنو
لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے
"خواب لے لو خواب"
لوگو
اتنے کم پندار ہم کب تھے
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں
کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں
ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں
کہ جن کی عاشقی میں
اور ہوا خواہی میں
ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں
چلو ہم بے‌نوا
محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے
پر اپنے آسماں کی داستانیں
اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں
خریدارو!
تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو
ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو
تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو
مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس
اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں
ہمارے خواب بے‌وقعت سہی
تعبیر سے عاری سہی
پر دل‌زدوں کے خواب ہی تو ہیں
نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں
کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے
نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں
تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے
نہ یہ ان آمروں کے خواب
جو بے‌آسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں
نہ یہ غارت‌گروں کے خواب
جو اوروں کے خوابوں کو تہہِ شمشیر کر جائیں
ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں
حرف و نوا کے خواب ہیں
مہجور دروازوں کے خواب
محصور آوازوں کے خواب
اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟

احمد فراز

جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر



جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گِرتا ہے تو آجاتے ہیں آرے لے کر

وہ جو آسودہِ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر

ایسا لگتا ہے کہ ہر موسمِ ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمھارے لے کر

شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا ہے جو گلیوں میں غبارے لے کر

نقدِ جاں صرف ہوا خلفتِ ہستی میں ‌فراز
اب جو زندہ ہیں تو کچھ سانس ادھارے لے کر

احمد فراز

Tuesday, June 21, 2011

Monday, February 21, 2011

Main Bohat Dinoo Sa Udaas Hoon


meray hath main ik Gulaab do Main Bohat Dinoo Sa Udaas Hoon

Sunday, February 13, 2011

Main ik tanha musafir hun Muhabbat ke kahani main

Main ik tanha musafir hun Muhabbat ke kahani main

Wednesday, February 9, 2011

Monday, February 7, 2011

wo khawab tha bikhar gya


ab k ham bichray


Kuch ash'har khawab k baray mainلفظ خواب پہ شعر

معلوم ھےخوابوں کی حقیقت ھے بکھرنا
پھر بھی تو کئی خواب بھلائے نہیں جاتے
 ===============================================
مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھےمرا خواب تھے
وہ جو روز وشب مرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
===============================================
اک بار اس کو رو کے بہت یاد کر لیا
پھر اس کے بعد وہ کبھی آیا نہ خواب میں
 ===============================================
آنکھوں میں آکے بیٹھ گئی اشکوں کی لہر
پلکوں پہ کوئی خواب پرونے نہیں دیا
 ===============================================
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے
اِن میں جا کر مگر رہا نہ کرو
 ===============================================
بڑی مُشکل سے سُلایا ہے خود کو میں نے
اپنی آنکھوں کو تیرے خواب کا لالچ دے کر
 ===============================================
تجھے خواب میں ہی دیکھیں یہ بھرم بھی آج ٹوٹا 
تیرے خواب کیسے دیکھوں مجھے نیند ہی نہ آئے
 ===============================================
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ‌
ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں۔۔ !

(قتیل شفائی)
=============================================== 
آنکھوں میں‌جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں‌ پہ سجانے کے لئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
===============================================
کچھ دن تو بسو میری آنکھوں‌ میں !
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا۔۔۔۔۔!
===============================================
         
جسے خواب دیکھنا ہو ، وہ زمیں پہ آ کے دیکھے

میں ہزار بار چاہوں کہ وہ مسکرا کے دیکھے
اُسے کیا غرض پڑی ہے جو نظر اُٹھا کے دیکھے

مرے دل کا حوصلہ تھا کہ ذرا سی خاک اُڑا لی
مرے بعد اُس گلی میں کوئی اور جا کے دیکھے

کہیں آسمان ٹُوٹا تو قدم کہاں رُکیں گے
جِسے خواب دیکھنا ہو ، وہ زمیں پہ آ کے دیکھے

اُسے کیا خبر کہ کیا ہے یہ شکستِ عہد و پیماں 
جو فریب دے رہا ہے وہ فریب کھا کے دیکھے

ہے عجیب کشمکش میں مری شمعِ آرزو بھی
میں جَلا جَلا کے دیکھوں ، وہ بُجھا بُجھا کے دیکھے

اُسے دیکھنے کو : قیصر : میں نظر کہاں سے لاؤں ؟
کہ وہ آئینہ بھی دیکھے تو چُھپا چُھپا کے دیکھے 

قیصر الجعفری

jo meri ankhon se khawab daikho


us ke palkon pe koe khawab


khawab martay nhe


Sunday, February 6, 2011

tum se kuch nahe kehna

Jam na soch rakha hai tum se kuch nahe kehna 
By Noshi Gillani 

koe kash tuje batlata

koe kash tuje batlata
hijr main kaisa khawab tha utra
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook