میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Showing posts with label Aankh. Show all posts
Showing posts with label Aankh. Show all posts

Saturday, January 7, 2012

وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے



خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے

تری مسرّتِ پیہم تمام ہو جائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے

غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
ہجومِ یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے

وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے

غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے

تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے

کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستاں پہ جھکے
کہ جنسِ عجزو عقیدت سے تجھ کو شاد کرے

فریبِ وعدۂ فردا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے

وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے

چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں


چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
ميرے خدايا
ميں زندگي کے عذاب لکھوں
کہ خواب لکھوں
يہ ميرا چہرہ، يہ ميري آنکھيں
بُجھے ہوئے سے چراغ جيسے
جو پھر سے جلنے کے منتظر ہوں
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں
جنہوں نے پيماں کيے تھے مجھ سے
رفاقتوں کے، محبتوں کے
کہا تھا مجھ سے
کہ اے مسافر رِہ وفا کے
جہاں بھي جائے گا
ہم بھي آئيں گے ساتھ تيرے
بنيں گے راتوں ميں چاندني ہم
تو دن ميں تارے بکھير ديں گے
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں
وہ اپنے پيماں
رفاقتوں کے، محبتوں کے
شکست کرکے
نہ جانے اب کس کي رہ گزر کا
مينارہِ روشني ہوئے ہيں
مگر مسافر کو کيا خبر ہے
وہ چاند چہرہ تو بجھ گيا ہے
ستارہ آنکھيں تو سو گئي ہيں
وہ زلفيں بے سايہ ہو گئيں ہيں
وہ روشني اور وہ سائے مري عطا تھے
سو مري راہوں ميں آج بھي ہيں
کہ ميں مسافر رہِ وفا کا
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں
ہزاروں چہروں، ہزاروں آنکھوں، ہزاروں زلفوں کا
ايک سيلابِ تند لے کر
ميرے تعاقب ميں آرہے ہيں
ہر ايک چہرہ ہے چاند چہرہ
ہيں ساري آنکھيں ستارہ آنکھيں
تمام ہيں مہرباں سايہ دار زلفيں
ميں کِس کو چاہوں، ميں کس کو چُوموں
ميں کس کے سايہ ميں بيٹھ جاؤں
بچوں کہ طوفاں ميں ڈوب جاؤں
کہ ميرا چہرہ، نہ ميري آنکھيں
ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں، کہ خواب لکھوں

Tuesday, June 21, 2011

Friday, May 6, 2011

Hui hai sham to

Hui hai sham to ankhon amin bas gaya phir tu

Friday, April 22, 2011

Hum ne sadiun ki hathaili pe rakhi hen aankhain

Hum ne sadiun ki hatheli pe rakhi hen aankhain
koe lamha tera idraak pehn kar ay

Tuesday, April 5, 2011

Jheel si ankhain

Jheel si ankhain

Yeh Qissa bohat purana hai, kuch yaad rha kuch yaad nhe

Wednesday, March 9, 2011

Tuesday, March 8, 2011

aank ban jati hai sawan ke ghata sham k baad

aank ban jati hai sawan ke ghata sham k baad
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook