میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Wednesday, November 30, 2011

کہا تھا یہ دسمبر میں


دسمبر کے حوالے سے شاعری
-----------------------------
السلام وعليكم ورحمة الله وبركاته
ماہ دسمبر سال کا آخری مہینہ سردی کی شدت کے ساتھہ ساتھہ یادوں کے دریچہ بھی وا ہوجاتے ہیں۔


سود وزیاں کے حساب وکتاب کے مرحلے بھی آتے۔ ماہ دسمبر پر شعراء نے بہت کچھہ کہا ، پیش ہے ماہ دسمبر کے حوالے سے کچھہ کلام



****************


کہا تھا یہ دسمبر میں

ہمیں تم ملنے آؤ گے

دسمبر کتنے گزرے ہیں

تمہاری راہوں کو تکتے

نجانے کس دسمبر میں

تمہیں ملنے کو آنا ہے

ہماری تو دسمبر نے

بہت اُمیدیں توڑیں ہیں

بڑے سپنے بکھیرے ہیں

ہماری راہ تکتی منتظر پُر نم نگاہوں میں

ساون کے جو ڈیرے ہیں

دسمبر کے ہی تحفے ہیں

دسمبر پھر سے آیا ہے

جو تم اب بھی نہ آئے تو

پھر تم دیکھنا خود ہی

تمہاری یاد میں اب کے

اکیلے ہم نہ روئیں گے

ہمارا ساتھ دینے کو

ساون کے بھرے بادل

گلے مل مل کے روئیں گے

پھر اتنا پانی برسے گا

سمندر سہہ نہ پائے گا

کرو نہ ضد چلے آؤ

رکھا ہے کیا دسمبر میں

دلوں میں پیار ہو تو پھر

مہینے سارے اچھے ہیں

کسی بھی پیارے موسم میں

چپکے سے چلے آؤ

سجن اب مان بھی جاؤ

دسمبر تو دسمبر ہے

دسمبر کا کیا بھروسہ

دسمبر بیت ہی جائے گا۔


****************

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook