میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Friday, October 26, 2012

اپنے وطن سے دور بیٹھے یہ عید بھی گزری ہے


اپنے وطن سے دور بیٹھے یہ عید بھی گزری ہے 
کیا کہیں کیا بتلائیں، کسی عید یہ گزری ہے 

اپنی بستی کا ہر چہرہ گھوم رہا تھا آنکھوں میں 
دھندلی دھندلی یادوں میں اپنی عید یہ گزری ہے 

جس طرف بھی اٹھی نظر، سورتیں تھیں اغیاروں کی 
بیچ ہجوم میں بھی تنہا اپنی عید یہ گزری ہے 

ہم سخن، ہم زبان، ہمنوا کوئی نہ تھا 
گونگے بہروں کی طرح اپنی عید یہ گزری ہے 

خوشی خوشی لوگ لوٹے ہوں گے اپنے گھروں کو 
پردیس کے اس صحرا میں اپنی عید یہ گزری ہے 

اب نہی تو اگلی بار چلے چلیں گی اپنوں میں 
اسی اس کے سہارے اپنی عید یہ گزری ہے 

آج کا دن مت چھیڑو گلشن کے افسانے کو 
ایسی ہی گزرنی تھی جیسی عید یہ گزری ہے 

Wednesday, October 10, 2012

بہت مصروف رہتے ہو

بہت مصروف رہتے ہو
نہیں فرصت ذرا تم کو

بہت سے دوست ایسے ہیں
جنہیں ملنا ملانا ہے

کئی دنیا کی رسمیں ہیں
جنہیں تم نے نبھانا ہے

ادھورے کام ہیں ڈھیروں
جنہیں اب ختم کرنا ہے

مگر کیا ان ضروری کاموں کی فہرست میں تم نے
مجھے ملنا، مجھے تکنا نہیں لکھا

کیا ان کاموں کے آخر سے بھی آخر میں
میرا درجہ نہیں آتا

بہت دشوار ہے میرے لیے اس کرب کو سہنا
نہیں ممکن مگر اس درد کا اب دل میں ہی رہنا

اگر فرصت ہو تو سوچو
جنہیں پوروں سے چنتے تھے
وہ آنسو رُلتے جاتے ہیں

جسے تم جان کہتے تھے
اگر وہ جان ہی نا ہو

تو پھر پھولوں کی خوشبو لے کر آنا بھی تو کیا آنا
کہ مٹی کی لحد پر بیٹھ کر واپس بلانے سے 
کوئی بھی آ نہیں جاتا

جو دنیا میں کسی کا غم نہ بانٹے، ساتھی وہ کیسا
کہ پلکوں کی گھنی جھالر کے گرنے پر
اسے رونا، بلانا ، وقت کو الزام دے دینا

بڑی فرسودہ باتیں ہیں
کہ تم تو جانتے ہوگے


گرا آنسو، گیا لمحہ اور پلکوں جا گرا پردہ
دوبارہ مڑ نہیں سکتا

Tuesday, October 9, 2012

آج کی رات کٹے گی کیسے


آج کی رات کٹے گی کیسے
دکھوں نے ڈیرا ڈالا ہے

تاریکی نے اپنا جوبن دکھایا ہے
اسی شکست سے خوف آنے لگا ہے

ہر سو ناکامی نے جو منہ دکھایا ہے
نیند آنے کا نام ہی نہیں لیتی

سکون اک زمانےکا ہم سے روٹھا ہے 
آج کی رات کٹے گی کیسے

اک مانوس سی آواز جو اکثر میرے کانوں میں پڑتی تھی
باعث راحت بنتی تھی

میری آنکھوں میں نیند آنے کا اک بہانہ بنتی تھی
آج وہ آواز کہیں گم ہو گئی ہے

مجھ سے روٹھ گئی ہے
اب نیند آئے تو کیسے آئے

کان اس آواز کے عادی ہوگئے ہیں
آنکھیں اس کی منتظر رہتی ہیں

وہ آواز کہاں کھو گئی ہے
میری راتیں اب کٹیں گی تو کیسےکٹیں گی 

تاریکوں کے ان مٹ سائے میں ہی کٹیں گی
شاید کہ بعد میں عادی ہو جاؤں ان سب باتوں کا
مگر جاناں بس یہ بتا دو کہ آج کی رات کٹے گی کیسے

Monday, October 8, 2012

لوٹ کر پہاڑوں سے اب صدائیں آتی ہیں


لوٹ کر پہاڑوں سے اب صدائیں آتی ہیں
خامشی ہے بستی میں، ڈوب ڈوب جاتی ہیں
لال سب کے سوئے ہیں پتھروں کے ڈھیروں میں
لوریاں یہ مائیں اب کیوں نہیں سناتی ہیں
بھائیوں کی لاشوں کو دیکھتی ہیں بہنیں بھی
دل میں درد اٹھتا ہے اور بیٹھ جاتی ہیں
حسرتیں رلاتی ہیں اُن خراب حالوں کو
خواہشیں امیدوں کے دیپ بھی جلاتی ہیں
زلزلے نے لائی ہیں وہ قیامتیں لوگو
جن کو سن کے روحیں بھی کانپ کانپ جاتی ہیں
آس پر ہی قائم ہے یہ نظام ہستی کا
دیکھ لو کہ پھر چڑیاں گھونسلے بناتی ہیں
 

نوحہ کیسے لکھوں گا!

آپ مجھ سے کہتے ہیں
اُن کا نوحہ لکھوں میں!
آپ کے تصرّف میں
لفظ ہوں اگر ایسے
جو کہ سب نے دیکھا ہے
وہ بیان کر پائیں
مجھ کو بھی عطا کیجے
میں تو خود کئی دن سے
اُس مہیب ملبے کے
بوجھ سے نہیں نکلا
اور ہاتھ میرے بھی کٹ گئے ہیں، ایسے میں
نوحہ کیسے لکھوں گا!
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook