میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا
Thursday, March 13, 2014
Friday, January 10, 2014
Monday, December 2, 2013
سرد دسمبر،تم اور میں
ہجر
کو چھو کر آئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں
شجر
سے لگ کر روئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں
تنہا
سی پگڈنڈی پر جانے کتنی دور تلک
یاد
کے پھیلے سائے تھے سرد دسمبر، تم اور میں
جانے
کیسی رت تھی وہ جانے کیسا موسم تھا
فصل
گل کے نوحے تھے سرد دسمبر،تم اور میں
گم
صم گم صم لرزیدہ گلے سے لگ کر روئے تھے
خواب
جو ہم نے بو ئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں
بارش،کہرے،پت
جھڑ میں بجلی کوندی یاد آیا
دھوپ
سنہری سوئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں
ٹرین
کی آخری سیٹی تک شاید تم کو یاد بھی ہو
اک
دوجے میں کھوئے تھے سرد دسمبر ، تم اور میں
Saturday, November 30, 2013
اسے کہنا دسمبر آگیا ہے
اسے کہنا دسمبر آگیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس ایک اور ماضی کی گپھا میں
ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئےگا
مگرجو خون جسموں میں
سو جائے گا وہ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کی کہرے کی
دیواروں پر لرزاں ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں پر سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا لوٹ آئے
Monday, October 28, 2013
تمہیں کس نے کہا پگلی
تمہیں کس نے کہا پگلی
مجھے تم یاد آتی ھو ؟؟؟
بہت خوش فہم ھو تم بھی
تمھاری خوش گمانی ہے
میری آنکھوں کی سرخی میں
تمھاری یاد کا مطلب ؟؟
میرے شب بھر کے جگنے میں
تمھارے خواب کا مطلب ؟؟
یہ آنکھیں تو ہمیشہ سے ہی
میری سرخ رہتی ہیں
تمہیں معلوم ہی ہو گا
اس شہر کی فضا کتنی آلودہ ہے
تو یہ سوزش اسی فضا کے باعث ہے
تمہیں کس نے کہا پگلی
کہ میں شب بھر نہیں سوتا
مجھے اس نوکری کے سب جھمیلوں سے
فرصت ملے تو تب ہے نا
میری باتوں میں لرزش ہے؟
میں اکثر کھو سا جاتا ہوں؟
تمہیں کس نے کہا پگلی
محبت کے علاوہ اور بھی تو درد ہوتے
ہیں
فکر معاش، سکھ کی تلاش
ایسے اور بھی غم ہیں
اور تم
ان سب غموں کے بعد آتی ھو
تمہیں کس نے کہا پگلی؟
مجھے تم یاد آتی ھو
یہ دنیا والے پاگل ہیں
زرا سی بات کو یہ افسانہ سمجھتے ہیں
مجھے اب بھی یہ پاگل
تیرا دیوانہ سمجھتے ہیں
تمہیں کس نے کہا پگلی
مگر شاید ٲٲٲٲٲٲٲ
مگر شاید ، میں جھوٹا ھوں
میں ریزا ریزا ٹوٹا ھوں
Subscribe to:
Posts (Atom)


