میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Monday, March 24, 2014

او دیس سے آنے والے بتا!




او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ہیں یارانِ وطن
آوارۂ غربت کو بھی سُنا
کس رنگ میں کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن، فردوسِ وطن
وہ سرو وطن، ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں
مستانہ ہوائیں آتی ہیں؟
کیا اب بھی وہاں کے پربت پر
گھنگھور گھٹائی چھاتی ہیں؟
کیا اب بھی وہاں کی برکھائیں
ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی
سر مست نظارے ہوتے ہیں؟
کیا اب بھی سہانی راتوں کو
وہ چاند ستارے ہوتے ہیں؟
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے
کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی شفق کے سایوں میں
دن رات کے دامن ملتے ہیں؟
کیا اب بھی چمن میں ویسے ہی
خوشرنگ شگوفے کھلتے ہیں؟
برساتی ہوا کی لہروں سے
بھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
شاداب و شگفتہ پھولوں سے
معمور ہیں گلزار اب کہ نہیں؟
بازار میں مالن لاتی ہے
پھولوں کے گندھے ہار اب کہ نہیں؟
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں
نو عمر خریدار اب کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شام پڑے گلیوں میں وہی
دلچسپ اندھیرا ہوتا ہے؟
اور سڑکوں کی دھندلی شمعوں پر
سایوں کا بسیرا ہوتا ہے؟
باغوں کی گھنیری شاخوں میں
جس طرح سویرا ہوتا ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں
اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں؟
کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی
اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں؟
وہ حُسن کے جادو چلتے ہیں
وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
ویرانیوں کے آغوش میں ہے
آباد وہ بازار اب کہ نہیں؟
تلواریں بغل میں دابے ہوئے
پھرتے ہیں طرحدار اب کہ نہیں؟
اور بہلیوں میں سے جھانکتے ہیں
تُرکانِ سیہ کار اب کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی مہکتے مندر سے
ناقوس کی آواز آتی ہے؟
کیا اب بھی مقدّس مسجد پر
مستانہ اذاں تھرّاتی ہے؟
اور شام کے رنگیں سایوں پر
عظمت کی جھلک چھا جاتی ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر
پنہاریاں پانی بھرتی ہیں؟
انگڑائی کا نقشہ بن بن کر
سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں؟
اور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے
ہنستی ہویہ چہلیں کرتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
برسات کے موسم اب بھی وہاں
ویسے ہی سہانے ہوتے ہیں؟
کیا اب بھی کے باغوں میں
جھُولے اور گانے ہوتے ہیں؟
اور دُور کہیں کچھ دیکھتے ہیں
نو عمر دِوانے ہوتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی پہاڑی چوٹیوں پر
برسات کے بادل چھاتے ہیں؟
کیا اب بھی ہوائے ساحل کے
وہ رس بھرے جھونکے آتے ہیں؟
اور سب سے اونچی ٹیکری پر
لوگ اب بھی ترانے گاتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں
گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں؟
ساحل کے گھنیرے پیڑوں میں
برکھا کی ہوائیں گونجتی ہیں؟
جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں
موروں کی صدائیں گونجتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں، میلوں میں وہی
برسات کا جوبن ہوتا ہے؟
پھیلے ہوئے بڑ کی شاخوں میں
جھُولوں کا نشیمن ہوتا ہے؟
اُمڈے ہوئے بادل آتے ہیں
چھایا ہوا ساون ہوتا ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شہر کے گرد، اب بھی ہیں رواں
دریائے حسیں لہرائے ہوئے؟
جُوں گود میں اپنے من کو لئے
ناگن ہو کوئی تھرّائے ہوئے؟
یا نور کی ہنسلی، حُور کی گردن
میں ہو عیاں بل کھائے ہوئے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی فضا کے دامن میں
برکھا کے سمے لہراتے ہیں؟
کیا اب بھی کنارِ دریا پر
طوفان کے جھونکے آتے ہیں؟
کیا اب بھی اندھیری راتوں میں
ملّاح ترانے گاتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں برسات کے دن
باغوں میں بہاریں آتی ہیں؟
معصوم و حسیں دوشیزائیں
برکھا کے ترانے گاتی ہیں؟
اور تیتریوں کی طرح سے رنگیں
جھولوں پہ لہراتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی اُفق کے سینے پر
شاداب گھٹائیں جھومتی ہیں؟
دریا کے کنارے باغوں میں
مستانہ ہوائیں جھومتی ہیں؟
اور اُن کے نشیلے جھونکوں سے
خاموش فضائیں جھومتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں
احباب، کنارِ دریا پر؟
وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں
شاداب، کنارِ دریا پر؟
اور پیار سے آ کر جھانکتا ہے
مہتاب، کنارِ دریا پر؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا آم کے اونچے پیڑوں پر
اب بھی وہ پپیہے بولتے ہیں؟
شاخوں کے حریری پردوں میں
نغموں کے خزانے کھولتے ہیں؟
ساون کے رسیلے گیتوں سے
تالاب میں امرس گھولتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی
وہ مدرسے کی شاداب فضا؟
کچھ بھُولے ہوئے دن گزرے ہیں
جس میں، وہ مثالِ خواب فضا؟
وہ کھیل، وہ ہمسن، وہ میداں
وہ خواب گہِ مہتاب فضا؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی کسی کے سینے میں
باقی ہے ہماری چاہ بتا؟
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ے اب
یاروں میں کوئی، آہ بتا؟
او دیس سے آنے والے بتا
لِللّٰہ بتا، لللّٰہ بتا؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا ہم کو وطن کے باغوں کی
مستانہ فضائیں بھول گئیں؟
برکھا کی بہاریں بھول گئیں
ساون کی گھٹائیں بھول گئیں؟
دریا کے کنارے بھول گئے
جنگل کی ہوائیں بھول گئیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا گاؤں میں اب بھی ویسے ہی
مستی بھری راتیں آتی ہیں؟
دیہات کی کم سن باہوشیں
تالاب کی جانب آتی ہیں؟
اور چاند کی سادہ روشنی میں
رنگین ترانے گاتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی گجر دم چرواہے
ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں؟
اور شام کے دھندلے سایوں کے
ہمراہ گھروں کو آتے ہیں؟
اور اپنی رسیلی بانسریوں میں
عشق کے نغمے گاتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں
برکھا کی بہاریں چھاتی ہیں؟
معصوم گھروں سے بھوربھئے
چکّی کی صدائیں آتی ہیں؟
اور یاد میں اپنے میکے کی
بچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
دریا کا وہ خواب آلودہ سا گھاٹ
اور اُس کی فضائیں کیسی ہیں؟
وہ گاؤں، وہ منظر، وہ تالاب
اور اُن کی صدائیں کیسی ہیں؟
وہ کھیت، وہ جنگل، وہ چڑیاں
اور اُن کی صدائیں کیسی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی پرانے کھنڈروں پر
تاریخ کی عبرت طاری ہے؟
اَن پورنا کے اجڑے مندر پر
مایوسی و حسرت طاری ہے؟
سنسان گھروں پر چھاؤنی کے
ویرانی و رقّت طاری ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا
وہ غارتِ ایماں کیسی ہے؟
بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی
وہ آفتِ دوراں کیسی ہے؟
ہم دونوں تھے جس کے پروانے
وہ شمعِ شبستاں کیسی ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
مرجانہ تھا جس کا نام بتا
وہ غنچہ دہن کس حال میں ہے؟
جس پر تھے فدا طفلانِ وطن
وہ جانِ وطن کس حال میں ہے؟
وہ سروِ چمن، وہ رشکِ سمن
وہ سیم بدن کس حال میں ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی رخِ گلرنگ پہ
وہ جنّت کے نظارے روشن ہیں؟
کیا اب بھی رسیلی آنکھوں میں
ساون کے ستارے روشن ہیں؟
اور اُس کے گلابی ہونٹوں پر
بجلی کے شرارے روشن ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی شہابی عارض پر
گیسوئے سیہ بل کھاتے ہیں؟
یا بحرِ شفق کی موجوں پر
دو ناگ پڑے لہراتے ہیں؟
اور جن کی جھلک سے ساون کی
راتوں کے سے سپنے آتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے بتا!
اب نامِ خدا، ہو گی وہ جواں
میکے میں ہے یا سسرال گئی؟
دوشیزہ ہے یا آفت میں اُسے
کم بخت جوانی ڈال گئی؟
گھر پر ہی رہی، یا گھر سے گئی
خوشحال رہی، خوشحال گئی؟
او دیس سے آنے والے بتا!

شاعر: اختر شیرانی
کتاب : کلیاتِ اختر شیرانی

Thursday, March 13, 2014

جدائی کی اذیت سے
میرا دل اب بھی ڈرتا ہے
جدائی دو گھڑی کی ہو تو کوئی دل کو سمجھائے
جدائی چار پل کی ہو تو کوئی دل کو بہلائے
جدائی عمر بھر کی ہو
تو کیا چارہ کرے کوئی
کہ اک ملنے کی حسرت میں بھلا کب تک جیئے کوئی
مرے مولا کرم کر دے تو ایسا کر بھی سکتا ہے
میرے ہاتھوں کی جانب دیکھ،
انہیں تو بھر بھی سکتا ہے

Monday, December 2, 2013

سرد دسمبر،تم اور میں



ہجر کو چھو کر آئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں
شجر سے لگ کر روئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں

تنہا سی پگڈنڈی پر جانے کتنی دور تلک
یاد کے پھیلے سائے تھے سرد دسمبر، تم اور میں

جانے کیسی رت تھی وہ جانے کیسا موسم تھا
فصل گل کے نوحے تھے سرد دسمبر،تم اور میں

گم صم گم صم لرزیدہ گلے سے لگ کر روئے تھے
خواب جو ہم نے بو ئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں

بارش،کہرے،پت جھڑ میں بجلی کوندی یاد آیا
دھوپ سنہری سوئے تھے سرد دسمبر،تم اور میں

ٹرین کی آخری سیٹی تک شاید تم کو یاد بھی ہو
اک دوجے میں کھوئے تھے سرد دسمبر ، تم اور میں

Saturday, November 30, 2013

اسے کہنا دسمبر آگیا ہے

اسے کہنا دسمبر آگیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس ایک اور ماضی کی گپھا میں
ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئےگا
مگرجو خون جسموں میں
سو جائے گا وہ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کی کہرے کی
دیواروں پر لرزاں ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں پر سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا لوٹ آئے

Monday, October 28, 2013

تمہیں کس نے کہا پگلی

تمہیں کس نے کہا پگلی
مجھے تم یاد آتی ھو ؟؟؟
بہت خوش فہم ھو تم بھی
تمھاری خوش گمانی ہے
میری آنکھوں کی سرخی میں
تمھاری یاد کا مطلب ؟؟
میرے شب بھر کے جگنے میں
تمھارے خواب کا مطلب ؟؟
یہ آنکھیں تو ہمیشہ سے ہی
میری سرخ رہتی ہیں
تمہیں معلوم ہی ہو گا
اس شہر کی فضا کتنی آلودہ ہے
تو یہ سوزش اسی فضا کے باعث ہے
تمہیں کس نے کہا پگلی
کہ میں شب بھر نہیں سوتا
مجھے اس نوکری کے سب جھمیلوں سے
فرصت ملے تو تب ہے نا
میری باتوں میں لرزش ہے؟
میں اکثر کھو سا جاتا ہوں؟
تمہیں کس نے کہا پگلی
محبت کے علاوہ اور بھی تو درد ہوتے ہیں
فکر معاش، سکھ کی تلاش
ایسے اور بھی غم ہیں
اور تم
ان سب غموں کے بعد آتی ھو
تمہیں کس نے کہا پگلی؟
مجھے تم یاد آتی ھو
یہ دنیا والے پاگل ہیں
زرا سی بات کو یہ افسانہ سمجھتے ہیں
مجھے اب بھی یہ پاگل
تیرا دیوانہ سمجھتے ہیں
تمہیں کس نے کہا پگلی
مگر شاید ٲٲٲٲٲٲٲ
مگر شاید ، میں جھوٹا ھوں
میں ریزا ریزا ٹوٹا ھوں

Friday, October 11, 2013

بس چائے بناتی ہوں



بڑا عرصہ ہوا اِک دن
بتایا تھا مجھے اُس نے
بنانا کچھ نہیں آتا
اگر مَیں کچھ بناتی ہوں
تو بس چائے بناتی ہوں
مَیں چائے کی دیوانی ہوں
بہت اچھی بناتی ہوں
پیو گے ناں؟؟
تو مَیں اس بات پر یوں مُسکراتا ہی رہا تھا کہ
بنانا کچھ نہیں آتا
بس اِک چائے بناتی ہوں
مجھے چائے سے اُلجھن ہے
نہیں پیتا، نہیں پیتا
مگر اِس بات کو بیتے زمانہ ہو گیا لوگو
نہیں معلوم مجھ کو کہ
وہ کیسی ہے؟
کہاں پر ہے؟
پر اب مَیں چائے پیتا ہوں
بڑی کثرت سے پیتا ہوں


Tuesday, October 8, 2013

آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ء


آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ء
(احمد ندیم قاسمی)

لکھوں تو کیا لکھوں!
کیسے لکھوں!
لفظوں کی ٹوٹی ہڈّیوں کو کیسے جوڑوں
سبھی روندے ہوۓ حرفوں سے،
نقطوں سے
جو پھوٹا پڑ رہا ہے جیتا جیتا خوں
صفحۂ قرطاس پر چنگاریاں بن کر ٹپکتا ہے
زباں کچلی پڑی ہے
اور اگر بولوں
تو لگتا ہے
مجھے چیخوں کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
جنازوں پر یہاں زندہ جنازے سینہ زن ہیں
کچھ اگر باقی ہے تو رگ و پے میں اترتا درد ہے
قلب و جگر کو چیرتا دُکھ ہے
مجھے تو یہ کہنا نہیں آتا
کچھ آتا ہے
تو ایسے المیے پر
اور عناصر کے مقابل اپنی فطری بے بسی پر
ٹوٹ کر رونا ہی آتا ہے
لکھوں تو کیا لکھوں!
• — — — — — — — — — — — — •

Thursday, May 23, 2013

بڑا عرصہ ہوا اِک دن... بتایا تھا مجھے اُس نے





بڑا عرصہ ہوا اِک دن
بتایا تھا مجھے اُس نے
بنانا کچھ نہیں آتا
اگر مَیں کچھ بناتی ہوں
تو بس چائے بناتی ہوں
مَیں چائے کی دیوانی ہوں
بہت اچھی بناتی ہوں
پیو گے ناں؟؟
تو مَیں اس بات پر یوں مُسکراتا ہی رہا تھا کہ
بنانا کچھ نہیں آتا
بس اِک چائے بناتی ہوں
مجھے چائے سے اُلجھن ہے
نہیں پیتا، نہیں پیتا
مگر اِس بات کو بیتے زمانہ ہو گیا لوگو
نہیں معلوم مجھ کو کہ
وہ کیسی ہے؟
کہاں پر ہے؟
پر اب مَیں چائے پیتا ہوں
بڑی کثرت سے پیتا ہوں

پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے




اَنا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

Friday, April 5, 2013

بہنا


بہنا 

وہ جوکہہ رہا تھا تم سے
 میری لاڈلی سی بہنا
ذرا حوصلے سے رہنا 
کوئی دکھ ہو، کوئی غم ہو 
اسے خوش دلی سے سہنا 
کوئی ایسا دن نہ آئے 
کہ تمہاری آنکھ نم ہو 
تمہیں یاد بھی نہ ہو گا 
میری چاند سی بہنا 
کہ یہ بات کہتے کہتے 
میں خود بھی رو دیا تھا 


Tuesday, February 5, 2013

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا


کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

پروین شاکر

Wednesday, January 2, 2013

اُداسی میری فطرت ہے


مجھے اب فــرق نہیں پـڑتا دسمبر بیت جـــانے سے
اُداسی میری فطرت ہے، اسے موسم سے کیا مطلب


Monday, December 31, 2012

میں لوٹوں گا دسمبر میں



’’دسمبر جب بھی آتا ہے‘‘

وہ پگلی پھر سے بیتے موسم کی تلخیوں کو یاد کرتی ہے
پرانے کارڈ پڑھتی ہے کہ جس میں لکھاتھا
’’میں لوٹوں گا دسمبر میں‘‘

نئے کپڑے بناتی ہے
وہ سارا گھر سجاتی ہے
دسمبر کے ہر اک دن کو
وہ گِن گِن کے بِتاتی ہے

جونہی پندرہ گزرتی ہے
وہ کچھ کچھ ٹوٹ جاتی ہے
مگر پھر بھی پرانے البموں کو کھول کر
ماضی بلاتی ہے

نہیں معلوم یہ اس کو کہ
بیتے وقت کی خوشیاں بہت تکلیف دیتی ہے
بہت دل کو جلاتی ہیں

یونہی دن بیت جاتے ہیں
دسمبر لوٹ جاتا ہے
مگر خوش فہم سی لڑکی دوبارہ سے
کلینڈر میں دسمبر کے مہینے کے صفحے کو
موڑ کر پھر سے دسمبر کے سحر میں کھو جاتی ہے
کہ آخر اس نے کہا تھا
’’میں لوٹوں گا دسمبر میں‘‘
__________________
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook