میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Tuesday, October 8, 2013

آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ء


آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ء
(احمد ندیم قاسمی)

لکھوں تو کیا لکھوں!
کیسے لکھوں!
لفظوں کی ٹوٹی ہڈّیوں کو کیسے جوڑوں
سبھی روندے ہوۓ حرفوں سے،
نقطوں سے
جو پھوٹا پڑ رہا ہے جیتا جیتا خوں
صفحۂ قرطاس پر چنگاریاں بن کر ٹپکتا ہے
زباں کچلی پڑی ہے
اور اگر بولوں
تو لگتا ہے
مجھے چیخوں کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
جنازوں پر یہاں زندہ جنازے سینہ زن ہیں
کچھ اگر باقی ہے تو رگ و پے میں اترتا درد ہے
قلب و جگر کو چیرتا دُکھ ہے
مجھے تو یہ کہنا نہیں آتا
کچھ آتا ہے
تو ایسے المیے پر
اور عناصر کے مقابل اپنی فطری بے بسی پر
ٹوٹ کر رونا ہی آتا ہے
لکھوں تو کیا لکھوں!
• — — — — — — — — — — — — •

Thursday, May 23, 2013

بڑا عرصہ ہوا اِک دن... بتایا تھا مجھے اُس نے





بڑا عرصہ ہوا اِک دن
بتایا تھا مجھے اُس نے
بنانا کچھ نہیں آتا
اگر مَیں کچھ بناتی ہوں
تو بس چائے بناتی ہوں
مَیں چائے کی دیوانی ہوں
بہت اچھی بناتی ہوں
پیو گے ناں؟؟
تو مَیں اس بات پر یوں مُسکراتا ہی رہا تھا کہ
بنانا کچھ نہیں آتا
بس اِک چائے بناتی ہوں
مجھے چائے سے اُلجھن ہے
نہیں پیتا، نہیں پیتا
مگر اِس بات کو بیتے زمانہ ہو گیا لوگو
نہیں معلوم مجھ کو کہ
وہ کیسی ہے؟
کہاں پر ہے؟
پر اب مَیں چائے پیتا ہوں
بڑی کثرت سے پیتا ہوں

پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے




اَنا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

Friday, April 5, 2013

بہنا


بہنا 

وہ جوکہہ رہا تھا تم سے
 میری لاڈلی سی بہنا
ذرا حوصلے سے رہنا 
کوئی دکھ ہو، کوئی غم ہو 
اسے خوش دلی سے سہنا 
کوئی ایسا دن نہ آئے 
کہ تمہاری آنکھ نم ہو 
تمہیں یاد بھی نہ ہو گا 
میری چاند سی بہنا 
کہ یہ بات کہتے کہتے 
میں خود بھی رو دیا تھا 


Tuesday, February 5, 2013

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا


کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

پروین شاکر
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook