میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Monday, November 12, 2012

نومبر کس لۓ آخر ہمیشہ خاص لگتا ہے

وہ درجن بھر مہینوں سے سدا ممتاز لگتا ہے
نومبر کس لۓ آخر ہمیشہ خاص لگتا ہے
بہت سہمی ہوئی صبحیں، اُداسی سے بھری شامیں
دوپہریں روئی روئی سی، وہ راتیں کھوئی کھوئی سی
گرم دبیز شالوں کا، وہ کم روشن اُجالوں کا
کبھی گزرے حوالوں کا، کبھی مشکل سوالوں کا
بچھڑ جانے کی مایوسی، ملن کی آس لگتا ہے
نومبر کس لۓ آخر ہمیشہ خاص لگتا ہے
 

Monday, November 5, 2012

او دیس سے آنے والے بتا !!!!!!



او دیس سے آنے والے بتا 
او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ہیں یارانِ وطن
آوارء غربت کو بھی سُنا
کس رنگ میں ہیں کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن فردوسِ وطن
وہ سروِ وطن ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا


او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی
سر مست نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو
وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے
کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
شاداب شگفتہ پھولوں سے
معمور ہیں گلزار اب کے نہیں
بازار میں مالن لاتی ہے
پھولوں کے گندھے ہار اب کے نہیں
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں
نو عمر خریدار اب کے نہین
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں
اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں
کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی
اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں
وہ حسن کے جادو چلتے ہیں
وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر
پِنہاریاں پانی بھرتی ہیں
انگڑائی کا نقشہ بن بن کر
سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں
اور اپنے گھر کو جاتے ہوئے
ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں
گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں
ساحل کے گھنیرے پیروں میں
برکھا کی صدائیں گونجتی ہیں
جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں 
موروں کی صدائیں گونجتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی
برسات کا جوبن ہوتا ہے
پھیلے ہوئے بر کی شاخوں میں
جھولوں کا نشیمن ہوتا ہے
اُمڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں
چھایا ہوا ساون ہوتا ہے
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں برسات کے دن
باغوں میں بہاریں آتی ہیں
معصوم و حسین دوشیزائیں 
برکھا کے ترانے گاتی ہیں
اور تیتلیوں کی طرح سے رنگین
جھولوں پر لہراتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی
وہ مدرسے کی شاداب فِضا
کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں
جس میں وہ مثالِ خواب فِضا
وہ کھیل ، وہ ہم سِن ،وہ میدان
وہ خواب گاہء مہتاب فِضا
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی کسی کے سینے میں
باقی ہے ہماری چاہ بتا ؟؟؟؟؟؟؟
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب
یاروں میں کوئی آہ بتا ؟؟؟؟؟
او دیس سے آنے والے بتا
للہ بتا للہ بتا 
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی فجر دم چرواہے
ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں
اور شام کے دھندلے سایوں کے ہمراہ
گھر کو آتے ہیں۔۔۔ ۔۔۔ 
اور اپنی رسیلی بانسریوں میں
عشق کے نغمے گاتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا
وہ غارتِ ایمان کیسی ہے
بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی
وہ آفتِ دوراں کیسی ہے
ہم دونوں تھے جس کے پروانے
وہ شمعء شبستان کیسی ہے
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
مرجانہ تھا جس کا نام بتا
وہ غنچہ دہن کس حال میں ہے
جس پر تھے فِدا طفلانِ وطن
وہ جانِ وطن کس حال میں ہے
وہ سروِ چمن وہ رشکِ وطن
وہ سیمیں بدن کس حال میں ہے
او دیس سے آنے والے بتا



او دیس سے آنے والے بتا
اب نامِ خدا ہوگی وہ جواں
میکے میں ہے یا سسرال گئی
گھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی
خوشحال رہی ، خوشحال گئی
او دیس سے آنے والے بتا 
او دیس سے آنے والے بتا

للہ بتا للہ بتا 

( اختر شیرانی )
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

Saturday, October 27, 2012

روزِعید تجھے خوش آمدید کہوں تو کیسے۔ ۔؟



صبحِ عید کی دستک پھر سنائی دی ہے
جی چاہتا ہے در نہ کھولوں اس کیلئے
اسے کہہ دوں کسی اور نگر کو جائے 
اسے بتا دوں خستہ حال ہوں ابھی


روزِ عید تجھے خوش آمدید کہوں تو کیسے۔۔؟
روزِ عید! میرے دکھ لا دوا ہیں ابھی!


کرب چہروں پہ آویزاں ہے خزاؤں کی طرح
میرے شہروں پر جنگ کے مہیب سائے ہیں
کتنی بستیاں بارود نے اجاڑ ڈالی ہیں
جسم وجاں پر کتنے ہی عذاب آئے ہیں


بغداد و بصرہ نوحہ کناں نظر آئے ہیں 
تازہ لہو موصل میں رواں ہے ابھی 
وہ قندھار کا مرد جری بھی لوٹ کر نہیں آیا ہے 
قابل و قندوز کی سسکیاں ہیں فضاوں میں ابھی 


روز عید تجھے خوش آمدید کہوں تو کیسے۔ ۔؟
روز عید میرے دکھ لا دوا ہیں ابھی!


میرے زخموں سے لہو رس رہا ہے
بڑی شدت کا ان میں درد اٹھتا ہے
لمحہ لمحہ مقتلوں میں بدن کٹتے ہیں
گھر جلتے ہیں اور ان سے دھواں اٹھتا ہے


ابو غریب گوانتانامو کے عقوبت خانوں میں 
درندگی کا راج ہےشیطان رقصاں ہے ابھی 
سر بازار رسوا ہوئیں عفت ماب بیٹیاں 
کسی محمد بن قاسم کو پکارتی ہیں ابھی 


روزِعید تجھے خوش آمدید کہوں تو کیسے۔ ۔؟
روزِ عید میرے دکھ لا دوا ہیں ابھی!


کشمیر شعلوں میں گھرا دکھائی دیتا ہے
فریادوں کا شور ہر جانب سنائی دیتا ہے
مسجد اقصیٰ کے آنسو دلوں پہ گرتے ہیں
چیچنیا ظلم کی دلدل میں دکھائی دیتا ہے 


مہاجر کپمپ گھروں میں نہیں بدلے ہیں 
رفح و غزہ میں اک حشر بپا ہے ابھی 


روزِعید تجھے خوش آمدید کہوں تو کیسے۔ ۔؟
روزِعید میرے دکھ لا دوا ہیں ابھی!


ایسے سنگلاخ دکھ کے رویں تو سمندر بھر جائیں 
لیکن آنکھوں کے جزیرے میں اک آنسو بھی نہیں
میرے مظلوم دھوپ میں کھڑے ہیں بے بس
اور دور تلک سایہ دیوار بھی نہیں 


روزِعید مجھ میں سکت نہیں کے مناؤں تجھ کو 
میرے حوصلے کی فصیلوں میں دراڑیں ہیں ابھی 
تن فگار منتظر ہیں مسیحائی کے 
عدو کے تیر سینے میں ترازو ہیں ابھی 


روز عید تجھے خوش آمدید کہوں تو کیسے۔ ۔؟
روز عید میرے دکھ لا دوا ہیں ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!


Friday, October 26, 2012

اپنے وطن سے دور بیٹھے یہ عید بھی گزری ہے


اپنے وطن سے دور بیٹھے یہ عید بھی گزری ہے 
کیا کہیں کیا بتلائیں، کسی عید یہ گزری ہے 

اپنی بستی کا ہر چہرہ گھوم رہا تھا آنکھوں میں 
دھندلی دھندلی یادوں میں اپنی عید یہ گزری ہے 

جس طرف بھی اٹھی نظر، سورتیں تھیں اغیاروں کی 
بیچ ہجوم میں بھی تنہا اپنی عید یہ گزری ہے 

ہم سخن، ہم زبان، ہمنوا کوئی نہ تھا 
گونگے بہروں کی طرح اپنی عید یہ گزری ہے 

خوشی خوشی لوگ لوٹے ہوں گے اپنے گھروں کو 
پردیس کے اس صحرا میں اپنی عید یہ گزری ہے 

اب نہی تو اگلی بار چلے چلیں گی اپنوں میں 
اسی اس کے سہارے اپنی عید یہ گزری ہے 

آج کا دن مت چھیڑو گلشن کے افسانے کو 
ایسی ہی گزرنی تھی جیسی عید یہ گزری ہے 

Wednesday, October 10, 2012

بہت مصروف رہتے ہو

بہت مصروف رہتے ہو
نہیں فرصت ذرا تم کو

بہت سے دوست ایسے ہیں
جنہیں ملنا ملانا ہے

کئی دنیا کی رسمیں ہیں
جنہیں تم نے نبھانا ہے

ادھورے کام ہیں ڈھیروں
جنہیں اب ختم کرنا ہے

مگر کیا ان ضروری کاموں کی فہرست میں تم نے
مجھے ملنا، مجھے تکنا نہیں لکھا

کیا ان کاموں کے آخر سے بھی آخر میں
میرا درجہ نہیں آتا

بہت دشوار ہے میرے لیے اس کرب کو سہنا
نہیں ممکن مگر اس درد کا اب دل میں ہی رہنا

اگر فرصت ہو تو سوچو
جنہیں پوروں سے چنتے تھے
وہ آنسو رُلتے جاتے ہیں

جسے تم جان کہتے تھے
اگر وہ جان ہی نا ہو

تو پھر پھولوں کی خوشبو لے کر آنا بھی تو کیا آنا
کہ مٹی کی لحد پر بیٹھ کر واپس بلانے سے 
کوئی بھی آ نہیں جاتا

جو دنیا میں کسی کا غم نہ بانٹے، ساتھی وہ کیسا
کہ پلکوں کی گھنی جھالر کے گرنے پر
اسے رونا، بلانا ، وقت کو الزام دے دینا

بڑی فرسودہ باتیں ہیں
کہ تم تو جانتے ہوگے


گرا آنسو، گیا لمحہ اور پلکوں جا گرا پردہ
دوبارہ مڑ نہیں سکتا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook