میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Tuesday, May 29, 2012

مبتلا ہے عذاب میں تتلی!



مبتلا ہے عذاب میں تتلی!
تھی بہاراں کے خواب میں تتلی

دل کوئی فرطِ غم سے ٹوٹ گیا
مر گئی اک کتاب میں تتلی

آخر اک روز اپنی جان سے گئی
آئینے کے سراب میں تتلی

رات کو اک عجب منظر تھا!
ہالہ ماہتاب میں تتلی

دیکھئے آج کس سے ملنا ہو
میں نے دیکھی ہے خواب میں تتلی

آہ، پیوستِ نوکِ خار ہوئی
اپنے عہد شباب میں تتلی

زخم میرے بدن پر ایسے سجے
جیسے شاخِ گلاب میں تتلی

جانے رہتی ہے کس کے غم میں نسیم
ہر گھڑی اضطراب میں تتلی

نسیم سحر

Wednesday, April 4, 2012

ہم پردیسی



" ہم پردیسی "

جو گھر سے دُور ہوتے ہیں
بہت مجبور ہوتے ہیں
کبھی باغوں میں سوتے ہیں
کبھی چھپ چھپ کے روتے ہیں
گھروں کو یاد کرتے ہیں
پھر فریاد کرتے ہیں
مگر جو بے سہارا ہوں
گھروں سے بے کنارا ہوں
اُنہیں گھر کون دیتا ہے
یہ خطرہ کون لیتا ہے
بڑی مشکل سے ایک کمرہ
جہاں کوئی نہ ہو رہتا
نگر سے پار ملتا ہے
بہت بیکار ملتا ہے
تو پھر دو تین ہم جیسے
ملالیتے ہیں سب پیسے
اور آپس میں یہ کہتے ہیں
کہ مل جُل کر ہی رہتے ہیں
کوئی کھانا بنائے گا
کوئی جھاڑو لگائے گا
کوئی دھوئے گا سب کپڑے
تو رہ لیں گے بڑے سُکھ سے
مگر گرمی بھری راتیں
تپیش آلود سوغاتیں
اور اُوپر سے عجیب کمرہ
گُھٹن اور حبس کا پہرہ
تھکن سے چُور ہوتے ہیں
سکُون سے دُور ہوتے ہیں
بہت جی چاہتا ہے تب
کہ ماں کو بھیج دے یارب
جو اپنی گود میں لے کر
ہمیں ٹھنڈی ہوا دے کر
سلا دے نیند کچھ ایسی
کہ ٹوٹے پھر نہ ایک پل بھی
مگر کچھ بھی نہیں ہوتا
تو کر لیتے ہیں سمجھوتہ
کوئی دل میں بِلکتا ہے
کوئی پہروں سُلگتا ہے
جب اپنا کام کر کے ہم
پلٹتے ہیں تو آنکھیں نَم
مکان ویران ملتا ہے
بہت بے جان ملتا ہے
خوشی مدھوم ہوتی ہے
فضا مغموم رہتی ہے
بڑے رنجور کیوں نہ ہوں
بڑے مجبور کیوں نہ ہوں
اوائل میں مہینے کے
سب اپنے خون پسینے کے
جو پیسے جوڑ لیتے ہیں
گھروں کو بھیج دیتے ہیں
اور اپنے خط میں لکھتے ہیں
ہم اپنا دھیان رکھتے ہیں
بڑی خوبصورت گاڑیاں ہیں
ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں
ہم یہاں بہت خوش رہتے ہیں
جبھی تو واپس نہیں آتے ہیں .. :(

Saturday, January 7, 2012

اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی


نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں
شعر اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر
لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں
اُڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم
سادہ کاغذ پہ لکھ کہ نام تیرا
کس ترا نام ہی مکمل ہے
اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی۔

وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے



خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے

تری مسرّتِ پیہم تمام ہو جائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے

غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
ہجومِ یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے

وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے

غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے

تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے

کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستاں پہ جھکے
کہ جنسِ عجزو عقیدت سے تجھ کو شاد کرے

فریبِ وعدۂ فردا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے

وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے

میں بارشوں میں جو یاد آؤں


میں بارشوں میں جو یاد آؤں
میں بارشوں میں جو یاد آؤں

تو سوچ لینا

کہ اس کی بوندوں میں میرے اشکوں نے گھر کیا ہے
سفر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اثر کیا ہے

میں بارشوں میں جو یاد آؤں

تو سوچ لینا

کہ بھیگے موسم نے میرا آنچل بھگو دیا ہے
تھا درد ہجراں بڑا ہی قاتل
وہ میرے دل میں سمودیا ہے

تمہارے وعدوں کا تھا محل جو،
تھی اس کی بنیاد پانیوں پر
یہی سبب ہے کہ تیز لہروں نے اس کو آخر،
ڈبو دیا ہے

میں بارشوں میں جو یاد آؤں،
تو سوچ لینا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook