میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا

Ads

Saturday, December 29, 2012

تجھ سے ملے بغیر دسمبر گــــزر گیا


یہ سال بھی اداس رہا ۔ ۔ ۔ روٹھ کر گیا
تجھ سے ملے بغیر دسمبر گــــزر گیا

آخری چند دن دسمبر کے


آخری چند دن دسمبر کے 

ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں

رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے

فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں

دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں

حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک سے لائنیں لگاتے ہیں

پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی

ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک

میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے

خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے

ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے

اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے

ان کی آنکھوں کے کواب دانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے

نام میرا بھی

کٹ گیا ہوگا

امجد اسلام امجد

Friday, December 28, 2012

سنا ہے نیا سال پھر آرہا ہے

سنا ہے نیا سال پھر آرہا ہے 
خوشیاں بھی ہونگی ، بہاریں بھی ہونگی 
مگر ہم تو گزرے دسمبر کی سوچوں میں گم ہیں 
کے جب تُو میرے پاس تھی 
ہاتھ تیرا میرے ہاتھ میں تھا 
اور خوشیاں چار سو ہمارے ساتھ تھیں 
مگر اب اکیلے تمہیں سوچتے ہیں 
یہی خوف دامن سے لپٹا ہوا ہے 
کے ایسا نا ہو اس برس بھی دسمبر 
تمھارے بنا ہی کہیں بیت جائے 
دسمبر تو ہر سال آتا رہے گا 
مگر تم نا ہوگے تُو کچھ بھی نا ہوگا 
سنا ہے نیا سال پھر آرہا ہے

Thursday, December 27, 2012

ایک دُعا آپ کے نام


دُعائوں میں بسے لوگو!

سنو یہ رابطوں کی دنیا ہے،

رابطوں سے رشتے ہیں،

چاہتوں کے یہ سنگم،

خؤشیوں کے یہ آنگن،

دوستی کے یہ بندھن،

ہم کو یاد آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنے والے سالوں میں

کس کے سنگ ہنسنا ہے 

کس سے مل کے رونا ہے

کب یہ اپنے بس میں ہے

مگر آسمان کی جانب

پھیلائے ہاتھ کہتے ہیں

دل سے دل کا ہر تعلق

معتبر دُعا سے ہے

جہاں بھی رہو صدا خؤش رہو 

آمین یا رب العالمین


Wednesday, December 26, 2012

خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا


اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ و بُو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا
اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر
خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا
راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھُولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بھُولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا
ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا
بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بھُولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا
جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر
دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں
’’
آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا
سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانیِ دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی
مَیں نے پُوچھا کہ سنوآئے تھے وہ کیسے تھے؟
مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے
کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

 پروین شاکر


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Follow on Facebook