Pages

Monday, May 16, 2011

آج بعد مدت کے

اور کچھ نہیں بدلا
آج بعد مدت کے
میں نے اُس کو دیکھا ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!
اب بھی اپنی آنکھوں میں
سو سوال رکھتی ہے
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ
اب بھی کھل کے ہنستی ہے
اب بھی اُس کے لہجے میں
وہ ہی کھنکھناہٹ ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!!
اب بھی اُس کی پلکوں کے
سائے گیلے رہتے ہیں
اب بھی اُس کی سوچوں میں
میرا نام رہتا ہے
اب بھی میری خاطر وہ
اُس طرح ہی پاگل ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!
آج بعد مدت

No comments:

Post a Comment