نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں شعر اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں اُڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم سادہ کاغذ پہ لکھ کہ نام تیرا کس ترا نام ہی مکمل ہے اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی۔
تنہا رہنا سیکھ رہا ہوں مر کے جینا سیکھ رہا ہوں مانگ کے پانا سیکھ لیا ہے پا کے کھونا سیکھ رہا ہوں صبر کو زاد راہ بنا کر کانچ پہ چلنا سیکھ رہا ہوں پھرتے پھرتے شہر شہر میں پیاس کو پینا سیکھ رہا ہوں جینے کے ہیں عجب تقاضے زندہ رہنا سیکھ رہا ہوں مدہوشی نے بڑا ستایا ہوش میں رہنا سیکھ رہاہوں اس پہ میں حیراں بھی بہت ہوں کرتب کیا کیا سیکھ رہا ہوں
چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں يہ ميرا چہرہ، يہ ميري آنکھيں بُجھے ہوئے سے چراغ جيسے جو پھر سے جلنے کے منتظر ہوں وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں جنہوں نے پيماں کيے تھے مجھ سے رفاقتوں کے، محبتوں کے کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رِہ وفا کے جہاں بھي جائے گا ہم بھي آئيں گے ساتھ تيرے بنيں گے راتوں ميں چاندني ہم تو دن ميں تارے بکھير ديں گے وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں وہ اپنے پيماں رفاقتوں کے، محبتوں کے شکست کرکے نہ جانے اب کس کي رہ گزر کا مينارہِ روشني ہوئے ہيں مگر مسافر کو کيا خبر ہے وہ چاند چہرہ تو بجھ گيا ہے ستارہ آنکھيں تو سو گئي ہيں وہ زلفيں بے سايہ ہو گئيں ہيں وہ روشني اور وہ سائے مري عطا تھے سو مري راہوں ميں آج بھي ہيں کہ ميں مسافر رہِ وفا کا وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں ہزاروں چہروں، ہزاروں آنکھوں، ہزاروں زلفوں کا ايک سيلابِ تند لے کر ميرے تعاقب ميں آرہے ہيں ہر ايک چہرہ ہے چاند چہرہ ہيں ساري آنکھيں ستارہ آنکھيں تمام ہيں مہرباں سايہ دار زلفيں ميں کِس کو چاہوں، ميں کس کو چُوموں ميں کس کے سايہ ميں بيٹھ جاؤں بچوں کہ طوفاں ميں ڈوب جاؤں کہ ميرا چہرہ، نہ ميري آنکھيں ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں، کہ خواب لکھوں
فقیرانہ روش رکھتے تھے لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے کہ اپنے خواب بیچیں ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے لیکن روکشِ بازار کب تھے ہمارے ہاتھ خالی تھے مگر ایسا نہیں پھر بھی کہ ہم اپنی دریدہ دامنی الفاظ کے جگنو لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے "خواب لے لو خواب" لوگو اتنے کم پندار ہم کب تھے ہم اپنے خواب کیوں بیچیں کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں کہ جن کی عاشقی میں اور ہوا خواہی میں ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں چلو ہم بےنوا محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے پر اپنے آسماں کی داستانیں اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں خریدارو! تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں ہمارے خواب بےوقعت سہی تعبیر سے عاری سہی پر دلزدوں کے خواب ہی تو ہیں نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے نہ یہ ان آمروں کے خواب جو بےآسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں نہ یہ غارتگروں کے خواب جو اوروں کے خوابوں کو تہہِ شمشیر کر جائیں ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں حرف و نوا کے خواب ہیں مہجور دروازوں کے خواب محصور آوازوں کے خواب اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟
چاند کبھي تو تاروں کي اس بھيڑ سے نکلے اور مري کھڑکي ميں آئے بالکل تنہا اور اکيلا ميں اس کو باہوں ميں بھرلوں ايک ہي سانس سب کي سب وہ باتيں کرلوں جو ميرے تالو سے چمٹي دل ميں سمٹي رہتي ہيں سب کچھ ايسے ہي ہوجائے جب ہے نا چاند مري کھڑکي ميں آئے، تب ہے نا
کتنا سہل جانا تھا خوشبوؤں کو چھو لینا بارشوں کے موسم میں شام کا ہرایک منظر گھر میں قید کر لینا روشنی ستاروں کی مٹھیوں میں بھر لینا
کتنا سہل جانا تھا خوشبوؤں کو چھو لینا جگنوؤں کی باتوں سے پھول جیسے آنگن میں روشنی سی کرلینا اس کی یاد کا چہرہ خوابناک آنکھوں کی جھیل کے گلابوں پر دیر تک سجا رکھنا
کتنا سہل جانا تھا
اے نظر کی خوش فہمی ! اس طرح نہیں ہوتا “تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے“
جو گھر سے دُور ہوتے ہیں بہت مجبُور ہوتے ہیں کبھی باغوں میں سوتے ہیں کبھی چھپ چھپ روتے ہیں غیروں کو یاد کرتے ہیں پھر فریاد کرتے ہیں مگر جو بے سہارا ہوں غیروں سے بے کنارا ہوں اُنہیں گھر کون دیتا ہے یہ خطرہ کون لیتا ہے بڑی مشکل سے ایک کمرہ جہاں کوئی نہ ہو رہتا نگر سے پار ملتا ہے بہت بیکار ملتا ہے تو پھر دو تین ہم جیسے ملتے ہیں سب پیاسے اور آپس میں یہ کہتے ہیں کہ مل جُل کر ہی رہتے ہیں کوئی کھانا بنائے گا کوئی جھاڑو لگائے گا کوئی دھوئے گا سب کپڑے تو رہ لیں گے بڑے سُکھ سے مگر گرمی بھری راتیں تپیش آلود سوغاتیں اور اُوپر سے عجیب کمرہ گُھٹن اور حبس کا پہرہ تھکن سے چُور ہوتے ہیں سکُون سے دُور ہوتے ہیں بہت جی چاہتا ہے جب کہ ماں کو بھیج دے یارب جو اپنی گود میں لے کر ہمیں ٹھنڈی ہوا دے کر سلا دے نیند کچھ ایسی کہ ٹوٹے پھر نہ ایک پل بھی مگر کچھ بھی نہیں ہوتا تو کر لیتے ہیں سمجھوتہ کوئی دل میں بِلکتا ہے کوئی پہروں سُلگتا ہے جب اپنا کام کر کے ہم پلٹتے ہیں تو آنکھیں نَم مکان ویران ملتا ہے بہت بے جان ملتا ہے کوشش مدھوم ہوتی ہے فضا مغموم رہتی ہے بڑے رنجور کیوں نہ ہوں بڑے مجبور کیوں نہ ہوں اوائل میں مہینے کے سب اپنے خون پسینے کے جو پیسے جوڑ لیتے ہیں گھروں کو بھیج دیتے ہیں اور اپنے خط میں لکھتے ہیں ہم اپنا دھیان رکھتے ہیں بڑی خوبصورت گاڑیاں ہیں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں ہم یہاں بہت خوش رہتے ہیں جبھی تو واپس نہیں آتے ہیں
میں سال کا آخری سورج ہوںمیں سب کے سامنے ڈوب چلاکوئی کہتا ہے میں چل نہ سکاکوئی کہتا ہے کیا خُوب چلامیں سب کے سامنے ڈوب چلا...اس رخصتِ عالم میں مجھ کواک لمحہ رخصت مل نہ سکیجس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھااس شب کی چاہت مل نہ سکییہ سال کہاں، اک سال کا تھایہ سال تو اک جنجال کا تھایہ زیست جو اک اک پَل کی ہےیہ اک اک پَل سے بنتی ہےسب اک اک پَل میں جیتے ہیںاور اک اک پَل میں مرتے ہیںیہ پَل ہے میرے مرنے کامیں سب کے سامنے ڈوب چلا اے شام مجھے تُو رخصت کر تُو اپنی حد میں رہ لیکن دروازے تک تو چھوڑ مجھے وہ صبح جو کل کو آئے گی اک نئی حقیقت لائے گی تُو اُس کے لئے، وہ تیرے لئے اے شا،م! تُو اتنا جانتی ہے اک صبحِ امید ، آثار میں ہے اک در تیری دیوار میں ہے اک صبحِ قیامت آنے تک بس میرے لیے بس میرے لیےیہ وقت ہی وقتِ قیامت ہےاب آگے لمبی رخصت ہےاے شام جو شمعیں جلاؤ تماک وعدہ کرو ان شمعوں سےجو سورج کل کو آئے یہاںوہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہووہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہووہ پُورے سال کا سورج ہواے شام مجھے تو رخصت کر